ہر طرف لب پہ صل علیٰ ہے ہر طرف روشنی روشنی ہے

ہر طرف لب پہ صل علیٰ ہے ہر طرف روشنی روشنی ہے

جشنِ میلاد ہے مصطفےٰ کا کیا معطر معطر گھڑی ہے

 

آج سن لی ہے سب کی خدا نے کھل گئے رحمتوں کے خزانے

جتنا دامن میں آئے سمیٹو ہر طرف رحمتوں کی جھڑی ہے

 

چھٹ گئیں ظلمتوں کی گھٹائیں کیسے دن آج کا بھول جائیں

عید میلاد آؤ منائیں کون سی عید اس سے بڑی ہے

 

ہم سے کہتا ہے خود ربِ اکبر میں ثنا خوان ہوں مصطفےٰ کا

تم بھی بھیجو درود ان پہ ہر دم ان کی مدحت مری بندگی ہے

 

اک خدا اک رسول ایک قرآں ایک کیوں کر نہیں پھر مسلماں

چھوڑ دو فرقہ بندی خدارا اس نے جاں کتنے بندوں کی لی ہے

 

ہر مسلمان ماتم کناں ہے گنگ انسانیت کی زباں ہے

آپ محسن ہیں انسانیت کے آپ کے در سے ہی لو لگی ہے

 

اپنے در پر ہی رکھنا خدارا غیر کا در نہیں ہے گوارا

آسؔ مانا کہ عاصی بہت ہے پر حضور آپ کا امتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ