اردوئے معلیٰ

ہر طرف کون و مکاں میں آپ ہی کا نور ہے

ہر طرف کون و مکاں میں آپ ہی کا نور ہے

سر بہ سر دونوں جہاں میں آپ ہی کا نور ہے

 

آپ کو تملیکِ کُل ہے مالک و مختار سے

ہر نفس ہر ایک جاں میں آپ ہی کا نور ہے

 

نازشِ عالم ہے حسنِ مصطفیٰ سے مستعار

تابشِ حسنِ جناں میں آپ ہی کا نور ہے

 

آگہی نورِ خدا کی آپ نے انساں کو دی

اِس لیے میرے گُماں میں آپ ہی کا نور ہے

 

آپ ہی کے نور سے روشن ہے ساری کائنات

ہر زمین و آسماں میں آپ ہی کا نور ہے

 

ذرّے جھڑ کر آپ کی پیزار سے، تارے بنے

جگمگاتی کہکشاں میں آپ ہی کا نور ہے

 

آدم و حوّا سے لے کر ابنِ شیبہ آمنہ

نور ہیں سب درمیاں، میں آپ ہی کا نور ہے

 

چار دانگ عالم میں ساری زندگی ہے آپ سے

ایک اک نبضِ رواں میں آپ ہی کا نور ہے

 

میں سخن ور ہوں مری منزل ہے مدحِ مصطفٰی

یوںمرے حرف و بیاں میں آپ ہی کا نور ہے

 

اِس لیے روشن ہیں منظر سب صحیفے عشق کے

واقعی ہر داستاں میں آپ ہی کا نور ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ