ہر لفظ حاضری کا سوالی ہے نعت میں

ہر لفظ حاضری کا سوالی ہے نعت میں

سوزِ اویسؓ ، عشقِ بلالیؓ ہے نعت میں

 

یہ سرخوشی کہاں ہے کسی اور صنف میں

کیفیتِ سرور مثالی ہے نعت میں

 

بھٹکے ہووں کو راہ دکھاتی ہے اُن کی نعت

ذوقِ مسافرت کی بحالی ہے نعت میں

 

ہر نعت میں ہے شہرِ مدینہ کا تذکرہ

یوں جلوہ گر وہ خطۂ عالی ہے نعت میں

 

قرطاس پر حروف کا سونا بکھر گیا

کیا ضوفشاں حضور کی جالی ہے نعت میں

 

نعتِ رسولِ پاک ہے معراجِ شاعری

ممدوح کائنات کا والی ہے نعت میں

 

اُن کے کرم سے جلد کہیں گے سُخن شناس

اخترؔ کا رنگِ خاص مثالی ہے نعت میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جسے عشق شاہ رسولاں نہیں ہے
کتنا سادہ بھی ہے سچا بھی ہے معیار ان کا
اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا
یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے
اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے
رحمت عالم محمد مصطفی
مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو
آرام گہِ سید سادات یہ گنبد
محفل میں تھا اکیلا , تھے جذبات منفرد
اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا

اشتہارات