اردوئے معلیٰ

Search

ہر مسافر ہے سہارے تیرے

کشتیاں تیری کنارے تیرے

 

تیرے دامن کو خبر دے کوئی

ٹوٹتے رہتے ہیں تارے تیرے

 

دھوپ دریا میں روانی تھی بہت

بہہ گئے چاند ستارے تیرے

 

تیرے دروازے کو جنبش نہ ہوئی

میں نے سب نام پکارے تیرے

 

بے طلب آنکھوں میں کیا کیا کچھ ہے

وہ سمجھتا ہے اشارے تیرے

 

کب پسیجینگے یہ بہرے بادل

ہیں شجر ہاتھ پسارے تیرے

 

میری آنکھوں کی مہک جاگتی ہے

پھول در پھول نظارے تیرے

 

میرا اک پل بھی مجھے مل نہ سکا

میں نے دن رات گزارے تیرے

 

وہ میری پیاس بتا سکتی ہے

کیوں سمندر ہوئے خارے تیرے

 

جو بھی منسوب تیرے نام سے تھا

میں نے سب قرض اتارے تیرے

 

تو نے لکھا میرے چہرے پہ دھواں

میں نے آئینے سنوارے تیرے

 

اور میرا دل وہی مفلس کا چراغ

چاند تیرے ہیں ستارے تیرے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ