ہر مسافر ہے سہارے تیرے

ہر مسافر ہے سہارے تیرے

کشتیاں تیری کنارے تیرے

 

تیرے دامن کو خبر دے کوئی

ٹوٹتے رہتے ہیں تارے تیرے

 

دھوپ دریا میں روانی تھی بہت

بہہ گئے چاند ستارے تیرے

 

تیرے دروازے کو جنبش نہ ہوئی

میں نے سب نام پکارے تیرے

 

بے طلب آنکھوں میں کیا کیا کچھ ہے

وہ سمجھتا ہے اشارے تیرے

 

کب پسیجینگے یہ بہرے بادل

ہیں شجر ہاتھ پسارے تیرے

 

میری آنکھوں کی مہک جاگتی ہے

پھول در پھول نظارے تیرے

 

میرا اک پل بھی مجھے مل نہ سکا

میں نے دن رات گزارے تیرے

 

وہ میری پیاس بتا سکتی ہے

کیوں سمندر ہوئے خارے تیرے

 

جو بھی منسوب تیرے نام سے تھا

میں نے سب قرض اتارے تیرے

 

تو نے لکھا میرے چہرے پہ دھواں

میں نے آئینے سنوارے تیرے

 

اور میرا دل وہی مفلس کا چراغ

چاند تیرے ہیں ستارے تیرے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ