اردوئے معلیٰ

ہر وقت دعائیں ہیں ہر لحظہ مناجاتیں

اُس شاہ سے ہوتی ہیں دن رات یوں ہی باتیں

 

ادنیٰ سے اشارے میں تھے چاند کے دو ٹکڑے

اک خاک کے پُتلے میں اور ایسی کراماتیں

 

صحرائے عرب میں جب خورشیدِ حِرا چمکا

وحدت کی ضیا پھیلی ، ظلمت کی گھٹی راتیں

 

بلوا لو مدینے میں تم اپنے غلاموں کو

مدت سے تمنا ہے ، ہو جائیں ملاقاتیں

 

احساس ندامت کا ، اقرار محبت کا

بے مایہ ترا مولا ، لایا ہے یہ سوغاتیں

 

اُس وادیٔ بطحا کی وہ نور بھری جھڑیاں

کیا آئیں پسند ہم کو اب ہند کی برساتیں

 

انعام کی بارش ہے ، اکرام کی بخشش ہے

دیوانۂ الفت کی اس درجہ مداراتیں

 

جب نامِ نبی لے کر محشر میں جلیلؔ آیا

زاہد کو بھی شرم آئی ، تھیں ایسی مداراتیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات