ہر چند مدح اس کی سب اہلِ ہنر کریں

ہر چند مدح اس کی سب اہلِ ہنر کریں

شایانِ شان اس کے نہ ہو جس قدر کریں

 

ان کے نقوشِ پا کا تتبع اگر کریں

لاریب لوگ وہ دلِ یزداں میں گھر کریں

 

ہم کیا بیانِ خُلقِ شہِ نامور کریں

جاں لیوا دشمنوں سے بھی وہ در گزر کریں

 

عشقِ نبیؐ میں آؤ اِن آنکھوں کو تر کریں

بے مایہ آنسوؤں کو بھی رشکِ گہر کریں

 

سب انبیا ہیں چاند مگر ماند ماند سے

بطحا کا چاند ان کے مقابل اگر کریں

 

آ اے شبِ فراق تجھے نورِ ذکر سے

ہم پایۂ صباحتِ روئے سحر کریں

 

رُعبِ جمال و حسن سے کانپے اگر نگاہ

اصحابؓ روئے پاک پہ کیسے نظر کریں

 

سب جمع ہو کے مسجدِ اقصیٰ میں انبیاء

تسلیم اقتدائے شہِ بحر و بر کریں

 

اسرا کی شب رسولِؐ خدا ہے رسائے عرش

اندازہ مرتبہ کا ذرا دیدہ ور کریں

 

لوٹ آئے درمیاں ہی سے درماندہ ہو کے جب

رفعت پہ اس کی اہلِ نظر کیا نظر کریں

 

میرا سلامِ شوق کہیں آنحضورؐ سے

طیبہ کو جانے والے کرم اس قدر کریں

 

جانا اُس آستاں پہ مبارک تمہیں نظرؔ

ہاں واپسی کی بات نہ ہم سے مگر کریں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محمد مصطفیٰ کا آستاں ہے
شہرطیبہ کے دروبام سے باندھے ہوئے رکھ
جان و ایماں سے بڑھ کے پیارا ہے
مٹا دل سے غمِ زادِ سفر آہستہ آہستہ
سنہرے موسم
سلام اے محمد! ، اے احمد! ، اے حامد!​
مرے خدا کو جو پیارا ہے یارسولؐ اللہ
ہے حبیب رب کا مرا نبیؐ وہ جہانِ جشن میں روشنی
رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند
مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہے

اشتہارات