ہر چیز مُشترک تھی ہماری سوائے نام

ہر چیز مُشترک تھی ہماری سوائے نام

اور آج رہ گیا ہے تعلق برائے نام

 

اشیائے کائنات سے ناآشنا تھا میں

پھر ایک اِسم نے مجھے سب کے سکھائے نام

 

تب میں کہوں کہ سچا ہوں یک طرفہ عشق میں

وہ میرا نام پوچھے ، مجھے بھول جائے نام

 

وہ دلرُبا بھی تھی کسی شاعر کی کھوج میں

میں نے بھی پھر بتایا تخلص بجائے نام

 

لشکر بنا رہا ہوں جوانانِ عشق کا

جس میں بھی آگ ہے ، مجھے مِل کر لکھائے نام،

 

تو عشق پائے عشق کے مرنے کے بعد بھی

فارس! مزارِ دل پہ ترا جگمگائے نام

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں
ھجر میں ھے یہی تسکین مُجھے
وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ مجھے مناؤ
پڑھا گیا مرا روزِ جزا جو نامہِ عشق
تحریر سنبھالوں ، تری تصویر سنبھالوں
جھانکتے جھانکتے کنارے سے
بہت ہی خوش ہوں کہ پیاروں سے ہو کے آیا ہوں
اَئے ابر زاد ، تیرے بدن پر یہ آبلے؟
ترا کرم بھی حقیقت ہے جانِ حرف ، مگر
آہستگی سے شیشہِ دل پر خرام کر