ہر گام اُس طرف سے اشارہ سفر کا تھا

ہر گام اُس طرف سے اشارہ سفر کا تھا

منزل سے دلفریب نظارہ سفر کا تھا

 

جب تک امید منزل جاناں تھی ہمقدم

دل کو ہر اک فریب گوارا سفر کا تھا

 

رہبر نہیں نصیب میں شاید مرے لئے

جو ٹوٹ کر گرا ہے، ستارہ سفر کا تھا

 

رُکنے پہ کر رہا تھا وہ اصرار تو بہت

مجبوریوں میں اُس کی اشارہ سفر کا تھا

 

آتی تھی اُس کے پاؤں سے زنجیر کی صدا

سامان گرچہ کاندھوں پہ سارا سفر کا تھا

 

نکلا تلاش ذات کا ساحل بھی نامراد

دریا کے اُس طرف بھی کنارہ سفر کا تھا

 

رستہ کٹا تو ساتھی یہ کہہ کر الگ ہوئے

منزل بخیر! ساتھ ہمارا سفر کا تھا

 

لوٹا تو پھرملی مجھے تحفے میں اک کتاب

دیکھا تو ایک تازہ شمارہ سفر کا تھا

 

بستی میں ہم ٹھہر کے تو بے آسرا ہوئے

خانہ بدوش تھے تو سہارا سفر کا تھا

 

راہیں الگ ہوئیں تو یہ مجھ پر کھُلا ظہیرؔ

وہ ہمسفر نہیں تھا، خسارہ سفر کا تھا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب خزاں آئے تو پتّے نہ ثَمَر بچتا ھے
لرزتے جسم کا بھونچال دیکھنے کے لیے
جہانِ فن میں دُور دُور تک برائے نام ہو
تمہارے گال کو چھو کر بھی کھارا کس لئے ہے؟
گرچہ کم کم تری تصویر نظر آتی ہے
درد کی اپنی ریت وچھوڑا
یار ! تُو میرے درد کو میری سخن وری نہ جان
تمہارے درد سے اپنے ملال سے خائف
حزنیہ ہے کہ طربیہ، جو ہے
تُو اور ترا یہ نام یہاں خاک بھی نہیں

اشتہارات