ہر گھڑی اک یہی ہے لگن یا نبی
ہوں فدا آپ پر جان و تن یا نبی
پھول بن کر کھِلے ہیں حسین و حسن
خوب صورت ہوا یہ چمن یا نبی
عمر میری بسر ہو فقط نعت میں
میں رہوں بس اسی میں مگن یا نبی
اک اجازت مجھے آپ کی چاہیے
میں مدینے کو کر لوں وطن یا نبی
ظلمتوں کا چلن مٹ گیا آپ سے
مرحبا ختم شد ہر گھٹن یا نبی
آپ کے ذکر میں تازگی کیوں نہ ہو
کیوں نہ مہکے ثنا کا چمن یا نبی
ہجر جھیلا ہے زاہدؔؔ نے کیجیے کرم
اب مٹا دیں یہ ساری جلن یا نبی