اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

. ہزار طرح کے تھے رنج پچھلے موسم میں

ہزار طرح کے تھے رنج پچھلے موسم میں

پر اتنا تھا کہ کوئی ساتھ رونے والا تھا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں ہجر زاد کہاں اور وصالِ یار کہاں
جتنا چھڑکا ہے تو نے زخموں پر
اب کوئی در، نہ کوئی راہ گزر دیکھوں گا
دنیا میں کوئی عشق سے بد تر نہیں ہے چیز
یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا
چپ چپ رہنا آہیں بھرنا کچھ نہ کہنا لوگوں سے
آپ دستار اٹھاؤ تو کوئی فیصلہ ہو
تو آج سکندر ہے تو کیوں اتنا تفاخر
گریہ بساط بھر ، یہاں لازم ہے ، فرض ہے
نہ تھے تیرے مرنے کےدن یہ نعیم