اردوئے معلیٰ

Search

 

ہستی پر میری مولا آقا کا رنگ چڑھا دے

کروں نبی نبی یا نبی دنیا مجھے بھلا دے

 

اشکوں سے تر ہے بدن ، اب تو کرم فرما دے

رحمت سے اپنی مجھے نوید سفر مدینہ سنا دے

 

ذاد سفر نہیں ہے، پنچھی مجھے بنا دے

لوں اڑان میں، مدینہ مجھے پہنچا دے

 

طلب ہے جیسے، اسے تخت و تاج دلا دے

در آقا کی مجھے ، مگر حا ضری کرا دے

 

زیارت ہو کیسے آقا کی، غلام کو سکھا دے

عطا سے اپنی مجھے وہ اسم اعظم بتا دے

 

تمنا ہے جیسے جہاں کی، اسے کل خدائی دے

مرقد حضوری کی مگر، آقا کے قدموں میں دکھائی دے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ