اردوئے معلیٰ

ہماری بستیاں کیوں ہوں مثالِ عاد وثمود

ہماری بستیاں کیوں ہوں مثالِ عاد و ثمود

ثنا کی گونج گھروں میں لبوں پہ وردِ درُود

 

متاعِ مال ہو اولاد ہو کہ خواہشِ عیش

نثار ان کی رضا پر تمام دولتِ بود

 

مرے پڑے تھے جہالت کے اندھے کہروں میں

سو پھر سے آپکی آمد نے کی ہماری نمود

 

کلیدِ فکرِ سخن ہے ثنائے شاہِ عرب

خیالِ نعت رقم ہو تو ٹوٹتا ہے جمود

 

حصارِ دین میں ہیں ہم تو ان کے سائے میں ہیں

بڑی سعید ہیں اپنے لئے حدود و قیود

 

نقوشِ پائے محمد سے عشق اٹھتا ہے

ہوا بہانوں سے جاتی ہے سوئے دشتِ سعود

 

عبادتوں میں یہ منت پذیرِ آقا ہیں

مرے قیام وتشہد مرے رکوع و سجود

 

یہ برتری یہ نبوت تجھے ہی زیبا ہے

کہ بے کنار ہے رحمت ، زمانہ لا محدود

 

ضیائے جودِ نبی سے ملی دمک ، جن کی

بصارتیں تھیں حجر بے صدا قلوبِ حسود

 

بہ نسبتِ شہِ والا مراد پائیں گے

سرِ شہود طلبگارِ یک نگاہِ ودود

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ