اردوئے معلیٰ

ہمارے دل سے زمانے کے غم مٹا یا رب

ہو میٹھے میٹھے مدینے کا غم عطا یا رب

 

غمِ حیات ابھی راحتوں میں ڈھل جائیں

تری عطا کا اشارہ جو ہوگیا یا رب

 

پئے حسین و حسن فاطمہ علی حیدر

ہمارے بگڑے ہوئے کام دے بنا یا رب

 

ہماری بگڑی ہوئی عادتیں نکل جائیں

ملے گناہوں کے اَمراض سے شِفا یا رب

 

مجھے دے خود کو بھی اور ساری دنیا والوں کو

سُدھارنے کی تڑپ اور حوصَلہ یا رب

 

ہمیشہ ہاتھ بھلائی کے واسِطے اٹھیں

بچانا ظلم و ستم سے مجھے سدا یا رب

 

رہیں بھلائی کی راہوں میں گامزن ہر دم

کریں نہ رُخ مِرے پاوں گناہ کا یا رب

 

گناہ گار طلبگارِ عَفو و رَحمت ہے

عذاب سہنے کا کس میں ہے حوصلہ یا رب

 

کرم سے نیکی کی دعوت کا خوب جذبہ دے

دوں دھوم سنتِ محبوب کی مچا یا رب

 

عطا ہو دعوتِ اسلامی کو قبولِ عام

اسے شُرور و فِتَن سے سدا بچا یا رب

 

میں پُل صراط بِلا خوف پار کر لوں گا

تِرے کرم کا سہارا جو مل گیا یا رب

 

کہیں کا آہ! گناہوں نے اب نہیں چھوڑا

عذابِ نار سے عطار کو بچا یا رب

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات