ہمیشہ مری چشمِ تر میں رہیں

ہمیشہ مری چشمِ تر میں رہیں

حضور آپ دل کے نگر میں رہیں

 

مری سوچ کے دائروں میں رہیں

خیالات کے بام و در میں رہیں

 

گماں فرقتوں کا میں کیسے کروں

کہ جب آپ ہر سو نظر میں رہیں

 

مرے حرف میں میرے الفاظ میں

مرے شعر میرے ہنر میں رہیں

 

مرے دن کی مصروفیت میں ہوں آپ

مری رات کے ہر پہر میں رہیں

 

مری شب کی ہو ابتدا آپ سے

مری انتہائے سحر میں رہیں

 

تمنا ہے یہ آسؔ وقتِ نزع

حضور آپ ہر سو نظر میں رہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ