اردوئے معلیٰ

Search

ہمیں جو ہوئی یہ ساری عطا حضور سے ہے

جہان میں یہ تمام ضیا حضور سے ہے

 

لگا کے یہ دل نہ بدلا ہے در نہ پھیری نظر

سو عشق ہمیں حضور سے تھا ، حضور سے ہے

 

تمام نبی عظیم ہیں پر بہ روزِ جزا

خدا کا کرم ہماری بقا حضور سے ہے

 

خدا سے ملا جو مانگا ہے سب یہ سچ ہے مگر

طلب کی قسم جمالِ دعا حضور سے ہے

 

دلوں میں چمک انہی کے سبب ہے اور سبھی

گھروں میں جو جل رہا ہے دیا حضور سے ہے

 

بتا رہے ہیں ، نطامِ جہاں بہار کی رُت

گلوں میں مہک چمن میں صبا حضور سے ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ