اردوئے معلیٰ

Search

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

نگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہے

 

تو اے بہار گریزاں کسی چمن میں رہے

مرے جنوں کی مہک تیرے پیرہن میں رہے

 

مجھے نہیں کسی اسلوب شاعری کی تلاش

تری نگاہ کا جادو مرے سخن میں رہے

 

نہ ہم قفس میں رکے مثل بوئے گل صیاد

نہ ہم مثال صبا حلقۂ رسن میں رہے

 

کھلے جو ہم تو کسی شوخ کی نظر میں کھلے

ہوئے گرہ تو کسی زلف کی شکن میں رہے

 

سرشک رنگ نہ بخشے تو کیوں ہو بار مژہ

لہو حنا نہیں بنتا تو کیوں بدن میں رہے

 

ہجوم دہر میں بدلی نہ ہم سے وضع خرام

گری کلاہ ہم اپنے ہی بانکپن میں رہے

 

یہ حکم ہے رہے مٹھی میں بند سیل نسیم

یہ ضد ہے بحر تپاں کوزۂ کہن میں رہے

 

زباں ہماری نہ سمجھا یہاں کوئی مجروحؔ

ہم اجنبی کی طرح اپنے ہی وطن میں رہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ