اردوئے معلیٰ

Search

ہمیں عظمتوں کا نشاں مل گیا ہے

رواں رحمتوں کا زماں مل گیا ہے

 

غریبوں کا والی کوئی بھی نہیں تھا

ہمیں والیٔ دو جہاں مل گیا ہے

 

گھٹا ظلمتوں کی تھی چھائی جہاں پر

وہاں پر درخشاں سماں مل گیا ہے

 

اشارے سے توڑا چمکتے قمر کو

نیا معجزہ اک وہاں مل گیا ہے

 

گواہی جو دی سو سمارِ زمیں نے

تو اسلام کو اک جواں مل گیا ہے

 

بدن میں تھا میرے جو دل تیرگی میں

اُسے روشنی کا جہاں مل گیا ہے

 

وہ سرکار احمد عرب کی زمیں کا

مکیں تھا وہاں کا یہاں مل گیا ہے

 

یہ قائم ثمر ہے جو لکھتا ہوں مدحت

سہانا سا حرف و بیاں مل گیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ