اردوئے معلیٰ

Search
اگرچہ سوت سے تکلے نے دھاگے کو نہ کھینچا تھا
مرے ریشے بنت کے مرحلے میں تھے
رگیں ماں کی دریدوں سے نہ بچھڑی تھیں
میں اپنے جسم سے کچھ فاصلے پر تھا
مگر میرے عقیدے کا تعین کرنے والوں نے
مرے مسلک کے بارے میں
جو سوچا تھا اسے تجسیم کر ڈالا
میں جس دم اپنے ہونے پر اتر آیا
مجھے تقسیم کر ڈالا
کسی نے میرے ماتھے پر تلک داغا
صلیبوں کو مری چھاتی پہ کھینچا
اور کانوں میں اذاں بھر دی
پھر اس کے بعد
پیشانی پہ انگارے
صلیبیں اپنے سینے پر
سماعت پر نمیدہ زنگ کے تالے سنبھالے
میں نے ساری عمر
دنیا کے تصرف میں گزاری ہے
مری فطرت سمٹنا اور
قسمت ٹوٹ جانا ہے
میں پارہ ہوں
مجھے دنیا مسلتی ہے
نفی اثبات کی ضربیں
مجھے تقسیم کرتی ہیں
بکھرتا ہوں
مرے ذرے تھرکتے ہیں
تو کہتے ہیں
ہمیں نابود مت کرنا
کہ جب تقسیم ہونے کا عمل ممکن نہیں رہتا
تو پھر ذرہ
ذرا بھر چوٹ کھانے پر
دھماکے کو اگلتا ہے
دھماکے کو سمجھتے ہو
دھماکہ جس سے حرف کن ٹپکتا ہے
ہمیں نابود مت کرنا
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ