ہمیں وہ اپنا کہتے ہیں محبت ہوتو ایسی ہو

ہمیں وہ اپنا کہتے ہیں محبت ہو تو ایسی ہو

ہمیں رکھتے ہیں نظروں میں عنایت ہو تو ایسی ہو

 

چلا آوٗں مدینے میں میرے سرکار بلوایا

کہوں آقا یہ سب سے میں، اجازت ہو تو ایسی ہو

 

سجا کر محفلِ ذکرِ نبی گھر میں بیٹھا ہوں

وہ آ جائیں میرے گھر میں زیارت ہو تو ایسی ہو

 

بلا کر اپنے قدموں میں گناہگاروں کو بھی آقا

سند دیتے ہیں جنت کی شفاعت ہو تو ایسی ہو

 

کہا رب نے محمد سر اٹھاؤ اب تو محشر میں

کہ بخشا ہم نے امت کو حمایت ہو تو ایسی ہو

 

اشارہ جب وہ فرما دیں تو سورج بھی پلٹ آئے

کوئی لاؤ مثال ایسی حکومت ہو تو ایسی ہو

 

کلیم آساں نہیں نعتِ نبی لکھنا کسی دم بھی

کہ آقا نے ہے لکھوائی سعادت ہو تو ایسی ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے
سرکا رکے جلووں سے معمور نظر رکھئیے
نعت کہنا مری قسمت کرنا
لے چلا مجھ کو طالعِ بیدار
جب بھی نگاہ کی ہے کِسی پر حضور نے
چلے زمِین سے جب آپ لامکاں کے لئے
حسن تمام و لطف سراپا تمہی تو ہو
پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے
نعلین گاہِ شاہ سے لف کر دیئے گئے
شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

اشتہارات