اردوئے معلیٰ

Search

ہم اُن کے آستاں تک دِل گرفتہ، دِلفگار آئے

سُبک سر ہو کے لوٹے، بوجھ سب سر سے اُتار آئے

 

لباسِ فاخرہ پہنایا، اُن کا بھر دیا دامن

درِ سرکار پر جو، لے کے دامن تار تار آئے

 

وہی ہم غم کے ماروں، غم زدوں کے آقا و مولا

وہی ہمدرد و مُونس، چارہ ساز و غم گُسار آئے

 

نئی اک زندگی لے کر وہ لوٹے آپ کے در سے

جو دینے جاں کا نذرانہ یہاں پر جانثار آئے

 

وہی لمحے ہماری زندگانی کا اثاثہ ہیں

جو شہرِ مصطفی میں آپ کے در پر گزار آئے

 

ذرا سی آبجو ہوں میں سمندر میں اُتر جاؤں

نظر عشقِ محمد کا جو بحرِ بے کنار آئے

 

ظفرؔ! گرتے ہوئے میں جب پُکاروں یا نبی اللہ

سہارا مُجھ کو دینے رحمتِ پروردگار آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ