اردوئے معلیٰ

ہم اپنی کمزوریوں کو طاقت میں ڈھالتے ہیں

ہم اپنی کمزوریوں کو طاقت میں ڈھالتے ہیں

گلا دباؤ تو ہم بھی آنکھیں نکالتے ہیں

 

یہ نم رہے گا سدا میسر تو دیکھنا ہم

تمام پودوں کو کیسے گریے پہ پالتے ہیں

 

انہیں روایات کہنے والے غلط ہیں صاحب

یہ بیڑیاں ہیں جو لوگ پیروں میں ڈالتے ہیں

 

یہ داؤ سیکھا ہے ہم نے اپنے ہی دوستوں سے

جسے گرانا ہو پہلے اسکو سنبھالتے ہیں

 

اگر بچھڑنے یا ساتھ رہنے کا فیصلہ ہے

تو آؤ دونوں ہوا میں سکہ اچھالتے ہیں

 

ہمارے چہروں پہ رائیگانی کی دھول دیکھو

ہمیں تو آئینے اور حیرت میں ڈالتے ہیں

 

تمہاری یادوں سے ایسے بہلا لیا ہے دل کو

غریب فاقوں میں جیسے پتھر ابالتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ