ہم جو غزل کے شہر سے نعت کی راہ آ گئے

ہم جو غزل کے شہر سے نعت کی راہ آ گئے

مدح نبی کی شکل میں راہ نئی دکھا گئے

 

صرف خیال سے گریز، سچ کی طرف سفر بنا

ظلمتِ شب میں مہر ساں، روشنیاں لٹا گئے

 

شہرِ غزل میں حرف تھے صرف خذف خذف مگر

مدح میں وہ گہر بنے، آب کچھ ایسی پا گئے

 

اہلِ سخن جو وادیٔ کذب سے بچ سکے کبھی

دائمی التباس سے دامنِ جاں چھڑا گئے

 

عرصۂ کائنات میں صرف نبی کی ذات ہے

جس کے طفیل مہر و مہ روشنیاں لُٹا گئے

 

کیسی کھلی دلیل ہے پیرویٔ رسول کی

جن کو یہ رنگ مل گیا، سارے جہاں پہ چھا گئے

 

آج عزیزؔ نعت کا رنگ ہی اور ہو گیا

آج سخن کے سلسلے شمع نئی جلا گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ