ہم جو غزل کے شہر سے نعت کی راہ آ گئے

ہم جو غزل کے شہر سے نعت کی راہ آ گئے

مدح نبی ﷺ کی شکل میں راہ نئی دکھا گئے

 

صرف خیال سے گریز، سچ کی طرف سفر بنا

ظلمتِ شب میں مہر ساں، روشنیاں لٹا گئے

 

شہرِ غزل میں حرف تھے صرف خذف خذف مگر

مدح میں وہ گہر بنے، آب کچھ ایسی پا گئے

 

اہلِ سخن جو وادیٔ کذب سے بچ سکے کبھی

دائمی التباس سے دامنِ جاں چھڑا گئے

 

عرصۂ کائنات میں صرف نبی ﷺ کی ذات ہے

جس کے طفیل مہر و مہ روشنیاں لُٹا گئے

 

کیسی کھلی دلیل ہے پیرویٔ رسول ﷺ کی

جن کو یہ رنگ مل گیا، سارے جہاں پہ چھا گئے

 

آج عزیزؔ نعت کا رنگ ہی اور ہو گیا

آج سخن کے سلسلے شمع نئی جلا گئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مرا نبیؐ
اہلِ صراط روحِ امیں کو خبر کریں
گنہ گاروں کو ہاتف سے نویدِ خوش مآلی ہے
دل میں ہے خیال رخ نیکوئے محمدﷺ
میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں​
خدا کا ذکر کرے ذکرِ مصطفیٰ نہ کرے
گنہ آلود چہرے اشک سے ڈھلوائے جاتے ہیں
زہے نصیب ! یہ دولت اگر بہم ہو جائے
بڑا احسان ہےمجھ پرخدا کا
یہ اُمّتی ناچیز ہو، دربارِ نبی ہو