’’ہم خاک اُڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی‘‘

 

’’ہم خاک اُڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی‘‘

اِس خاک کی اُس خاک میں ہو کاش سمائی

جس خاک میں مدفوں شہِ والا ہے ہمارا

’’آباد رضاؔ جس پہ مدینہ ہے ہمارا‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مولیٰ گلبن رحمت زہرا سبطین اس کی کلیاں پھول
ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا
برسائے وہ آزادہ روی نے جھالے
اُنؐ کی را ہوں میں کہکشاں دیکھوں
درِ سرکارؐ تک رسائی ہو
اِک زمانہ فراق میں گزرا
فرازِ طُور سے غارِ حرا تک
خدا تک رہنما میرے محمدؐ
بھاگ جگے گا ہم بھی مدینے جائیں گے ان شاءاللہ
’’سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے‘‘