’’ہم خاک اُڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی‘‘

 

’’ہم خاک اُڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی‘‘

اِس خاک کی اُس خاک میں ہو کاش سمائی

جس خاک میں مدفوں شہِ والا ہے ہمارا

’’آباد رضاؔ جس پہ مدینہ ہے ہمارا‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حالِ دل پر جو عنایت کی نظر ہو جائے
اس درجہ ہے ضعف جاں گزائے اسلام
حبیبِ کبریاؐ سایہ کُناں ہو
مرے پیشِ نظر طیبہ نگر ہے
اُن کی خوشبو دل و نظر کے لیے
محمدؐ آپ کا ہے نامِ نامی
اُخوت اور چاہت آپؐ ہی کے دم قدم سے ہے
قسمت نے کسی دن جو پہنچایا مدینے میں
’’جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے‘‘
’’ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت‘‘

اشتہارات