اردوئے معلیٰ

Search

ہم خاک نشینوں کو نئی خاک ملی ہے

جو چھوڑ کر آئے وہی املاک ملی ہے

 

ہم سادہ روش لوگ بدلتے نہیں چولے

میلی ہی نہیں ہوتی وہ پوشاک ملی ہے

 

پہنے ہوئے پھرتے ہیں تہِ جبہ و دستار

در سے جو ترے خلعتِ صد چاک ملی ہے

 

رکھی ہے بصارت کی طرح دیدہِ تر میں

قسمت سے ہمیں نعمتِ نمناک ملی ہے

 

سونے کے بدل بکتی ہے بازار میں خوشبو

پھولوں کو مگر قیمتِ خاشاک ملی ہے

 

رکھتے ہیں امانت کی طرح نقدیِ جاں کو

وہ لوگ جنہیں دولتِ ادراک ملی ہے

 

دیتے ہوئے ڈرتا ہوں اُسے جامۂ الفاظ

خامے کو طبیعت مرے بے باک ملی ہے

 

دریا کے کنارے بھی کہیں ملتے ہیں لوگو؟

دھرتی سے کہیں سرحدِ افلاک ملی ہے؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ