ہم سوئے حشر چلیں گے شہِ ابرار کے ساتھ

ہم سوئے حشر چلیں گے شہِ ابرار کے ساتھ

قافلہ ہوگا رواں قافلہ سالار کے ساتھ

 

رہ گئے منزل سدرہ پہ پہنچ کر جبریل

چل نہیں سکتا فرشتہ تری رفتار کے ساتھ

 

یہ تو طیبہ کی محبت کا اثر ہے ورنہ

کون روتا ہے لپٹ کر در و دیوار کے ساتھ

 

اے خدا دی ہے اگر نعتِ نبی کی توفیق

حُسنِ کردار بھی دے لذت گفتار کے ساتھ

 

پُل سے مجھ سا بھی گنہگار گزر جائے گا

ہوگی سرکار کی رحمت جو گنہگار کے ساتھ

 

رات دن بھیج سلام انُ پہ ملائک کی طرح

پڑھ درود انُ پہ غلامانِ وفادار کے ساتھ

 

دیکھ اے معترض نعتِ رسول عربی

قُرب حساں کو ملا تھا انہی اشعار کے ساتھ

 

سب عطائیں ہیں خدا کی میرے مولا کے طفیل

ورنہ یہ لطف و کرم مجھ سے گنہگار کے ساتھ

 

ہم بھی مظہر سے سنیں گے کوئی نعت رنگیں

گر ملاقات ہوئی شاعرِ دربار کے ساتھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جو مجھ سے خطا کار و زیاں کار بھی ہوں گے
اے ختمِ رسل نورِ خدا شاہِ مدینہ
ان کا نہیں ہے ثانی نہ ماضی نہ حال میں
امکانِ حرف و صوت کو حیرت میں باندھ کر
وجودِ شوق پہ اک سائباں ہے نخلِ درود
میں ، مری آنکھیں ، تمنائے زیارت ، روشنی
نبی اکرمؐ شفیع اعظمؐ دکھے دلوں کا پیام لے لو
آنکھ گنبد پہ جب جمی ہوگی
جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے
صبح بھی آپؐ سے شام بھی آپؐ سے