اردوئے معلیٰ

Search

ہم شہر مدینہ کی ہوا چھوڑ چلے ہیں

اس جنتِ طیبہ کا مزا چھوڑ چلے ہیں

 

کس شوق سے آئے تھے مدینے کے مسافر

روتے ہوئے طیبہ کی فضا چھوڑ چلے ہیں

 

کب جھیل سکے گا یہ مدینے کی جدائی

دل اب ِترے در پر ہی پڑا چھوڑ چلے ہیں

 

مشکل ہے ‘ جلیل ! اُن کے درِ پاک سے جانا

پھر لوٹ کے آنے کی دعا چھوڑ چلے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ