ہم شہر مدینہ کی ہوا چھوڑ چلے ہیں

ہم شہر مدینہ کی ہوا چھوڑ چلے ہیں

اس جنتِ طیبہ کا مزا چھوڑ چلے ہیں

 

کس شوق سے آئے تھے مدینے کے مسافر

روتے ہوئے طیبہ کی فضا چھوڑ چلے ہیں

 

کب جھیل سکے گا یہ مدینے کی جدائی

دل اب ِترے در پر ہی پڑا چھوڑ چلے ہیں

 

مشکل ہے ‘ جلیل ! اُن کے درِ پاک سے جانا

پھر لوٹ کے آنے کی دعا چھوڑ چلے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مدینہ کا سفر جاری و ساری
درودوں کا وظیفہ لمحہ لمحہ دم بدم رکھیں
حضور آپ کا اسوہ جہانِ رحمت ہے
جس کو آیا قرینہ مدحت کا
صبحِ بزمِ نو میں ہے یا شامِ تنہائی میں ہے
کیا عجب لطف و عنایات کا در کھُلتا ہے
طُرفہ انداز لیے اُن کے کرم کی صورت
کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس
شاہ بطحا کی اگر چشم عنایت ہوگی
ہر جگہ اہل ایمان غالب رہے

اشتہارات