ہم ڈھانپ تو لیں نین ترے نین سے پہلے

ہم ڈھانپ تو لیں نین ترے نین سے پہلے

مرتے ہیں ذرا سانس تو لیں چین سے پہلے

 

دھندلا سا تصور ہے ترے شوخ بدن کا

کچھ بیضوی اشکال ہیں قوسین سے پہلے

 

یہ بات بجا ہے کہ حوالہ ہے ہمارا

یہ دیکھ بیاں کس کا ہے واوین سے پہلے

 

پھر دل کو بھلے جو بھی سزا چاہے سنا دے

تو سن تو سہی بات فریقین سے پہلے

 

یہ عمر فقط رین بسیرا ہے ، مگر ڈھونڈ

چھت سر کو چھپانے کے لیے رین سے پہلے

 

کیا راز بھلا تجھ سے بیاں ہوں کہ ہر اک بات

موضوعِ جہاں ہو گئی مابین سے پہلے

 

ہو آئے ترے قافِ قیامت سے پرے تک

کیا حرف ہے ائے عشق ترے عین سے پہلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آخری سپاہی
نوحہ گر
عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین
جھجھکتے رھنا نہیں ھے ادا محبت کی
مری دیوانگی خود ساختہ نئیں
مَنّت مانی جائے؟ یا کہ دم کروایا جا سکتا ہے؟
پایا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے
نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے
بات کب رہ گئی مرے بس تک