ہم کو اپنی طلب سے سوا چاہیے

ہم کو اپنی طلب سے سوا چاہیے

آپ جیسے ہیں ویسی عطا چاہیے

 

کیوں کہیں یہ عطا وہ عطا چاہیے

آپ کو علم ہے ہم کو کیا چاہیے

 

اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور

ہر قدم پہ کرم آپ کا چاہیے

 

آستان حبیب خدا چاہیے

اور کیا ہم کو اس کے سوا چاہیے

 

آپ اپنی غلامی کو دے دیں سند

بس یہی عزت و مرتبہ چاہیے

 

اپنے قدموں کا دھوون عطا کیجیے

ہم مریضوں کو آبِ شفا چاہیے

 

سبز گنبد کی ہمسائیگی بخش دے

یہ مسلسل کرم اے خدا چاہیے

 

حشر کی چلچلاتی ہوئی دھوپ میں

ان کے دامن کی ٹھنڈی ہوا چاہیے

 

اور کوئی بھی اپنی تمنّا نہیں

ان کے پیاروں کی پیاری ادا چاہیے

 

عشق میں آپ کے ہم تڑپتے تو ہیں

ہر تڑپ میں بلالی ادا چاہیے

 

دردِ جامیؔ ملے نعت خالدؔ لکھوں

اور انداز احمد رضاؔ چاہیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ