ہم کو مولا کی عطا حاصل ہوئی

ہم کو مولا کی عطا حاصل ہوئی

اسمِ احمد کی ولا حاصل ہوئی

 

کوئے احمد کی ہوا حاصل ہوئی

ہاد سے راہِ ہدیٰ حاصل ہوئی

 

اور ولا اس کی سدا حاصل ہوئی

ہر گماں سے ماورا حاصل ہوئی

 

دائمی ہے اور دوامی ہے کرم

دل کے دردوں کی دوا حاصل ہوئی

 

گمرہی کے روگ سارے مٹ گئے

سائے کو کالی ردا حاصل ہوئی

 

وہ کرم ہے وہ عطا ہے مہر ہے

ہر لساں کو اک دعا حاصل ہوئی

 

مرحلے سارے ہی آساں ہو گئے

لا دواؤں کو دوا حاصل ہوئی

 

ہر لساں اور ہر دہاں کا ہے کلام

ہر صدا صلِّ علیٰ حاصل ہوئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ