ہم گداؤں بے نواؤں کا سہارا آپ ہیں

 

ہم گداؤں بے نواؤں کا سہارا آپ ہیں

ظلمتیں مٹتی ہیں جس سے وہ ستارا آپ ہیں

 

احمدِ مرسل سراپا رحمتہ للعٰلمیں

مرکزِ جود و سخا حسنِ دلآرا آپ ہیں

 

جب الیٰ غیری پکاریں گے تمامی حشر میں

کامل و اکمل سہارا تب ہمارا آپ ہیں

 

والئی کون و مکاں ہیں،فخرِ حسنِ دو جہاں

نکہت و نورِ جہاں سارے کا سارا آپ ہیں

 

’’آپ کی مرضی پہ ہے موقوف طیبہ کا سفر‘‘

ہے مجھے درکار جس کا اک اشارہ آپ ہیں

 

پل پہ منظرؔ ڈگمگا جائے نہ مولا ہو کرم

جانِ جاں اس وقت بھی میرا سہارا آپ ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ