ہم گداؤں بے نواؤں کا سہارا آپ ہیں

 

ہم گداؤں بے نواؤں کا سہارا آپ ہیں

ظلمتیں مٹتی ہیں جس سے وہ ستارا آپ ہیں

 

احمدِ مرسل سراپا رحمتہ للعٰلمیں

مرکزِ جود و سخا حسنِ دلآرا آپ ہیں

 

جب الیٰ غیری پکاریں گے تمامی حشر میں

کامل و اکمل سہارا تب ہمارا آپ ہیں

 

والئی کون و مکاں ہیں،فخرِ حسنِ دو جہاں

نکہت و نورِ جہاں سارے کا سارا آپ ہیں

 

’’آپ کی مرضی پہ ہے موقوف طیبہ کا سفر‘‘

ہے مجھے درکار جس کا اک اشارہ آپ ہیں

 

پل پہ منظرؔ ڈگمگا جائے نہ مولا ہو کرم

جانِ جاں اس وقت بھی میرا سہارا آپ ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہو
وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں
خلد مری صرف اس کی تمنا صلی اللہ علیہ والہ وسلم
حصار نور میں ہوں گلشن طیبہ میں رہتا ہوں
اپنے بھاگ جگانے والے کیسے ہوں گے
اس خالق کونین کی مرضی بھی ادھر ہے
نعتِ سرکار مرے دور کی پہچان بھی ہے
ظلمت کدے میں نور کا دھارا رسول ہیں