اردوئے معلیٰ

Search

ہنستا رہتا ہوں اور خوشی کم ہے

زندگی میں بھی زندگی کم ہے

 

کیا ہوا تجھ کو میرے شہرِ سخن

شعر اتنے ہیں ، شاعری کم ہے

 

کتنا لمبا ہے ہجر کا رستہ

تیری یادوں کو ڈائری کم ہے

 

ٹھوکریں لگ رہی ہیں کیوں اتنی

آنکھ بند ہے کہ روشنی کم ہے

 

میں بھی عادی سا ہوگیا غم کا

تیرے چہرے پہ بھی خوشی کم ہے

 

کھول دے راستہ سمندر کا

دیکھ آنکھوں میں تشنگی کم ہے

 

منہ چھپایا ہے آئینے سے زبیر

یہ ندامت ہے عاشقی کم ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ