ہوئی ہے رُوح مری جب سے آشنائے درود

 

ہوئی ہے رُوح مری جب سے آشنائے درود

لہو میں گونجتے رہتے ہیں نغمہ ہائے درود

 

دروُد ازل ہی سے موجود ہے پہ دنیا میں

حضور آئے تو رکّھی گئی بنائے درود

 

کھلا یہ منزلِ ہستی کا مجھ پہ رازِ نہاں

نجات کا کوئی رستہ نہیں سوائے دروُد

 

برہنہ لفظ لبوں سے کبھی ادانہ ہوئے

زباں نے پہنی ہے جب سے مری قبائے دروُد

 

پھراس کے بعد یہ سوچیں گے گفتگو کیا ہو

جو آئے پہلے سُنے اور پھر سُنائے دروُد

 

ازل سے گونج رہی ہے سماعتوں میں اذاں

بنی بنائی ملی ہے ہمیں فضائے دروُد

 

وہی جو مالک و مختار ہے دو عالم کا

اسی کے نام سے ہوتی ہے ابتدائے دروُد

 

خدا کا شکر ادا کیجیے کہ ہم کو سلیمؔ

بنامِ اسمِ محمد ملی متاعِ دروُد

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ