اردوئے معلیٰ

Search

ہوائے ظلم سر کربلا چلی کیا ہے

نبی کے باغ پہ چھائی افسردگی کیا ہے

 

گلے پہ تیرِ ستم کھا کے کر دیا

کہ شیر خوار کی شانِ سپہہ گری کیا ہے

 

جھکائے سایۂ شمشیر میں نہ سر کیونکر

حسینؑ جانتے تھے حق کی بندگی کیا ہے

 

دکھاتے منزلِ حق کی نہ راہ کیوں سرور

وہی تو جانتے تھے طرزِ رہبری کیا ہے

 

غم حسین میں رو رو کے دن گزارتے ہیں

مجھے خبر نہیں پرتاپؔ اب خوشی کیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ