اردوئے معلیٰ

ہوا پُرکیف ہے ساری جہاں رقصیدہ ، رقصیدہ

مدینہ نور جس کے ذرّے بھی تابندہ ، تابندہ

 

درودوں اور سلاموں کی محافل روز ہوتی ہیں

مدینے میں فرشتوں کی بڑی سنجیدہ ، سنجیدہ

 

سراپا نور ہیں وہ نور جن کے نور سے عالم

زمیں کیا آسماں ، کون و مکاں رخشندہ ، رخشندہ

 

نبی جی آپ کی چشمِ عنایت کی ضرورت ہے

غموں سے سینہ چھلنی ہے جگر کاویدہ ، کاویدہ

 

رواں جب دیکھتا ہوں قافلے حج اور عمرہ کے

میں اپنی بے بسی پر ہوتا ہوں نمدیدہ ، نمدیدہ

 

کرم کیجے ، کرم کیجے مجھے جلوہ عطا کیجے

کئی برسوں سے آنکھیں ہیں میری ترسیدہ ، ترسیدہ

 

شفاعت کے لیے پہنچوں رضاؔ میں اُن کے روضے پر

گناہوں پر ہوا ہوں میں بڑا شرمندہ ، شرمندہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات