اردوئے معلیٰ

Search

ہوا کے دوش پہ رکھتا ہوں میں جلا کے چراغ

یہ آندھیاں بھی دکھائیں ذرا بجھا کے چراغ

 

دل و دماغ پہ چھاتا ہے نُور کا بادل

اٹھا کے ہاتھ، جلاتا ہوں جب دعا کے چراغ

 

انہی کے نام چمکتے ہیں آسمانوں پر

جو خونِ دل سے جلایا کیے وفا کے چراغ

 

جہاں بھی جاؤں میں پاتا ہوں روشنی دل میں

دل و نگاہ میں روشن ہیں دلربا کے چراغ

 

جلیل غیر کی چوکھٹ پہ بھیک مانگے کیوں

حریم جاں میں ہیں روشن تری عطا کے چراغ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ