ہوتے نہ جلوہ گر جو شہِ مُرسَلیں کبھی

ہوتے نہ جلوہ گر جو شہِ مُرسَلیں کبھی

ہوتا نہ دین ، خاتَمِ دل کا نگیں کبھی

 

گزرے تھے ہنس کے خواب میں وہ بلیقیں کبھی

چمکی تھی برقِ ناز ہمارے قریں کبھی

 

جو رحمتِ تمام کو اپنا بنا گئے

اُن آنسوؤں سے بھیگ گئ آستیں کبھی

 

جو جُھک گئ خدا کے درِ حق مآب پر

باطل کے سامنے نہ جُھکی وہ جبیں کبھی

 

وہ تو گناہ گاروں پہ ہیں مائلِ کرم

اُن کو پکارتے نہیں دل سے ہمیں کبھی

 

اُس آستاں کی عظمت و رفعت کو چُھو سکے

اِتنا بُلند ہو تومذاقِ جبیں کبھی

 

دیکھا نہ آپ نے جو عنایت کی راہ سے

مسرور ہو سکے گا نہ قلبِ حزیں کبھی

 

ممکن نہیں کہ جلوہ نہ اُن کا جِلو میں ہو

دل میں جَلا کے دیکھ چراغِ یقیں کبھی

 

جس پر پڑا نہ پرتوِ محبوبِ کردگار

پُھولی پَھلی نصیرؔ نہ ایسی زمیں کبھی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ