ہوس کا شائبہ جب خال و خد میں آئے گا

ہوس کا شائبہ جب خال و خد میں آئے گا

وہ نیک شخص بھی فہرستِ بد میں آئے گا

 

یہ بانجھ پیڑ ہے بابا ثمر نہ دے پایا

تو ایک روز کلہاڑے کی ذد میں آئے گا

 

مجھے گمان ہے ابجد کو جاننے والے

ہمارا زائچہ اچھے عدد میں آئے گا

 

یہ کون کہہ رہا ، کچھ بھی نہیں اثاثے میں

تمہارا ہجر سامانِ رسد میں آئے گا

 

میں اس کے سامنے باتیں کرونگی غیروں سے

جو پیار میں نہیں آیا ، حسد میں آئے گا

 

فقیر وجد میں کشکول کو الٹ دے گا

ہجوم تب کہیں اوقات و حد میں آئے گا

 

میں چاہتی ہوں کہ تھوڑا خسارہ ہو دل کا

تو کیا یہ فیصلہ دل کی مدد میں آئے گا

 

ہمارا چیخنا بیکار جانے والا ہے

سکوت آپ کا صاحب ! سند میں آئے گا

 

بیاہ دیں گے مجھے والدین مرضی سے

یہ قتل دیکھنا قتلِ عمد میں آئے گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ