اردوئے معلیٰ

ہوش و خرد سے کام لیا ہے

اُن کا دامن تھام لیا ہے

 

لوگو دُرودِ پاک پڑھو تم

میں نے اُن کا نام لیا ہے

 

طوف حرم اور عشق کی چادر

کیا اچھا احرام لیا ہے

 

اُن کی راہ پہ چلتے رہنا

کام یہ خوش انجام لیا ہے

 

چپ رہ کر سب کچھ کہہ ڈالا

اشکوں سے کیا کام لیا ہے

 

میں نے حضوری کے لمحوں میں

نعتوں کا انعام لیا ہے

 

ہم نے صبیحؔ محمد کہہ کر

اکثر دل کو تھام لیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات