اردوئے معلیٰ

ہونٹوں پہ سجایا ہے درودوں کا لبادہ

رکھتے ہیں مدینے میں حضوری کا ارادہ

 

ہم جیسے گداؤں کے لئے کوئے جناں میں

در سرورِ کونین کا رہتا ہے کشادہ

 

وہ رفرف و براق نشیں صاحبِ عالم

ہم مفلس و نادار غریب اور پیادہ

 

کیا پیش کروں کچھ بھی نہیں آپ کے لائق

توصیف کے کچھ حرف ہیں بے مایہ و سادہ

 

ہم حشر کے دن ڈھونڈنے والوں کو ملیں گے

دل اور جبیں شاہ کی چوکھٹ پہ نہادہ

 

روتے تھے تواتر سے تہجد میں، حرا میں

مقصد تھا فقط امتِ عاصی کو افادہ

 

ہم لائقِ دیدارِ محمد نہیں لیکن

اشفاق ہمیں رہتی ہے امید زیادہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات