ہونٹوں پہ سجایا ہے درودوں کا لبادہ

ہونٹوں پہ سجایا ہے درودوں کا لبادہ

رکھتے ہیں مدینے میں حضوری کا ارادہ

 

ہم جیسے گداؤں کے لئے کوئے جناں میں

در سرورِ کونین کا رہتا ہے کشادہ

 

وہ رفرف و براق نشیں صاحبِ عالم

ہم مفلس و نادار غریب اور پیادہ

 

کیا پیش کروں کچھ بھی نہیں آپ کے لائق

توصیف کے کچھ حرف ہیں بے مایہ و سادہ

 

ہم حشر کے دن ڈھونڈنے والوں کو ملیں گے

دل اور جبیں شاہ کی چوکھٹ پہ نہادہ

 

روتے تھے تواتر سے تہجد میں، حرا میں

مقصد تھا فقط امتِ عاصی کو افادہ

 

ہم لائقِ دیدارِ محمد نہیں لیکن

اشفاق ہمیں رہتی ہے امید زیادہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کائناتِ نعت ،محدودات میں آتی نہیں
منور صبح ہوگی روضۂ خیرالوریٰ ہوگا
نبی کا نام جب میرے لبوں پر رقص کرتا ہے
جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا
اے خدا شكر كہ اُن پر ہوئیں قرباں آنكھیں
ہستی پر میری مولا آقا کا رنگ چڑھا دے
روحِ دیں ہے عید میلادُالنبی
شب غم میں سحر بیدار کر دیں

اشتہارات