اردوئے معلیٰ

Search

ہونٹوں پہ ہمیشہ سے ہیں تذکارِ مدینہ

ہوتی ہے فزوں خواہشِ دیدارِ مدینہ

 

ہوں دُور پہ ملتے ہیں، وہ لمحاتِ حضوری

رہتے ہیں تصور میں جو سرکارِ مدینہ

 

آتی ہیں مجھے یاد مدینے کی بہاریں

آنکھوں میں سمو لایا تھا انوارِ مدینہ

 

خوشبو ہے وہ عنبر میں نہ مشکِ خُتن میں

جس سے کہ مہکتا ہے وہ دربارِ مدینہ

 

ایمان بھی آخر میں پلٹ آئے گا طیبہ

ایمان بچانے میں ہے کردارِ مدینہ

 

اثمار ہیں دامن میں گلستانِ کرم کے

سر پر ہے مرے سایۂ اشجارِ مدینہ

 

رہتا ہوں بہت دور جلیل، اپنے وطن میں

رہتا ہے مگر دل میں وہ گلزارِ مدینہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ