ہونٹ جب اسمِ محمد کے گہر چومتے ہیں

ہونٹ جب اسمِ محمد کے گہر چومتے ہیں

تب کہیں حرفِ دعا بابِ اثر چومتے ہیں

 

گھیر لیتے ہیں انہیں کیفِ کرم کے جگنو

ان کی چوکھٹ کو جو با دیدۂ تر چومتے ہیں

 

ان کے چہرے کی صباحت کا سماں کیا ہوگا

جن کے تلووں کی لطافت کو قمر چومتے ہیں

 

ورنہ پتھر کو کہاں ملنا تھا ایسا رتبہ

آپ نے چوما تھا سو ہم بھی حجر چومتے ہیں

 

ہے یہ اظہارِ عقیدت بھی عقیدہ بھی یہی

نام سرکار کا ہم شام و سحر چومتے ہیں

 

جس کی آنکھوں میں بسی ہوگی مدینے کی گلی

نور والے اسی زائر کی نظر چومتے ہیں

 

جب عطا ہوتا ہے اشفاق یہ میٹھا تحفہ

ہم عقیدت سے مدینے کی تمر چومتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا
اے خدا شكر كہ اُن پر ہوئیں قرباں آنكھیں
ہستی پر میری مولا آقا کا رنگ چڑھا دے
روحِ دیں ہے عید میلادُالنبی
شب غم میں سحر بیدار کر دیں
شفیع الوریٰ() کو درودوں کا عطیہ​
مہکی ہے فضا گیسوئے محبوب عرب سے
ہیں سرپہ مرے احمد مشکل کشا کے ہاتھ

اشتہارات