ہونے ہیں شکستہ ابھی اعصاب ، لگی شرط

ہونے ہیں شکستہ ابھی اعصاب ، لگی شرط

دھتکارنے والی ہوں میں سب خواب ، لگی شرط

 

اے شام کے بھٹکے ہوئے ماہتاب ، سنبھل کر

ہے گھات میں بستی کا یہ تالاب ، لگی شرط

 

اچھا تو وہ تسخیر نہیں ہوتا کسی سے

یہ بات ہے تو آج سے احباب ، لگی شرط

 

پھر ایک اسے فون میں رو رو کے کروں گی

پھر چھوڑ کے آجائے گا وہ جاب ، لگی شرط

 

اس شخص پہ بس اور ذرا کام کرونگی

سیکھے گا محبت کے وہ آداب ، لگی شرط

 

جو دکھ کی رتوں میں بھی ہنسی اوڑھ کے رکھیں

ہم ایسے اداکار ہیں نایاب ، لگی شرط

 

جب چاہوں تجھے توڑ دوں میں کھول کے آنکھیں

اے چشم اذیت کے برے خواب ! لگی شرط

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ