اردوئے معلیٰ

ہوگی ہلال و بدر کی کیا چاندنی حسیں

 

ہوگی ہلال و بدر کی کیا چاندنی حسیں

ہے بارہویں کے چاند کی جلوہ گری حسیں

 

ہے دم قدم سے آپ کی تابانی کے حضور

شمس و مہ و نجوم کی تابندگی حسیں

 

میں نعت کے چراغ جلانے میں تھا مگن

ہوتی گئی ہے آپ سے وابستگی حسیں

 

وہ اہتمامِ نعت ہوا خوبخود کہ اب

لگنے لگی ہے مجھ کو مری شاعری حسیں

 

ہونٹوں پہ جب سے مدحِ شۂ دیں ہے مرتضیٰؔ

بگڑی سنور گئی ، ہوئی یہ زندگی حسیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ