اردوئے معلیٰ

Search

ہوں منتظرِ ساعت، وہ چشمِ کرم اُٹّھے

میری بھی نگاہوں سے پردہ کوئی دم اُٹّھے

 

اظہار کی ناکامی پر روز پشیماں ہوں

ہر روز ہی آقا کی مدحت میں قلم اُٹّھے

 

نادم ہو جو یہ عاصی سرکار کی محفل میں

بخشش کے تصوّر سے، بادیدۂ نم اُٹّھے

 

اُٹھ جائیں اگر پردے آنکھوں سے کبھی میری

پُر شوق تقاضا ہو ہر بار کہ کم اُٹّھے

 

تنفیذِ شریعت کو فیضِ شہِ والا سے

اے کاش کہ ہم دیکھیں کچھ اہلِ ہِمم اُٹّھے

 

چھا جائے فضاؤں پر پھر رنگِ حجاز ایسے

مٹ جائیں سبھی رسمیں ہر طرزِ عجم اُٹّھے

 

ہو اُن کی محبت کا کچھ ایسا اثر احسنؔ!

جس سمت اشارہ ہو اُس سمت قدم اُٹّھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ