اردوئے معلیٰ

Search

ہوں میری باغ و بہار آنکھیں

جو دیکھیں ان کا دیار آنکھیں

 

حضور! اذنِ حضوری بخشیں

کہ رہتی ہیں اشکبار آنکھیں

 

ہوا ہے طیبہ سے دور رہ کر

فگار دل، خوں فشار آنکھیں

 

برائے دیدِ رخِ منوّر

ہماری ہیں بے قرار آنکھیں

 

قریب آنے لگا ہے طیبہ

دوانو! کرلو سنگھار آنکھیں

 

حضور خوابوں میں اب تو آئیں

ہوئیں ہیں مثلِ مزار آنکھیں

 

رکھوں میں طیبہ کے خار اِن میں

بناؤں میں لالہ زار آنکھیں

 

میں چھوڑ آؤں درِ نبی پر

تکیں انھیں بار بار آنکھیں

 

لکھوں میں اشکوں سے نعت ان کی

ہوں کاش مدحت نگار آنکھیں

 

مرے رسولِ کریم کی ہیں

سراپا رحمت شعار آنکھیں

 

تجلّیِ حسنِ ماہِ طیبہ

کرو مِری نور بار آنکھیں

 

لگا کے عشقِِ نبی کا کاجل

نواز اپنی سنوار آنکھیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ