ہو تصور میں شہا روضہ ترا آٹھوں پہر

ہو تصور میں شہا روضہ ترا آٹھوں پہر

دل کو مہکاتا رہے عطرِ ثنا آٹھوں پہر

 

ہو کسی شب خواب میں دیدارِ شاہِ مرسلاں

اور پھر جاری رہے یہ سلسلہ آٹھوں پہر

 

جلوۂ ماہِ مدینہ دیکھ لے جو ایک بار

پھوٹتی ہے اس کی آنکھوں سے ضیا آٹھوں پہر

 

قابلِ صد رشک ان کا دن ہے ان کی رات ہے

ہے میسر جن کو طیبہ کی ہوا آٹھوں پہر

 

پوچھنے والے نے پوچھا، کب کروں وردِ درود؟

مسکرا کر میرے آقا نے کہا، آٹھوں پہر

 

طاعتِ سرکار میں گزریں تو اچھی بات ہے

ورنہ ہیں کس کام کے صبح و مسا، آٹھوں پہر

 

کوئی دن ہو ، کوئی ساعت ہو، کوئی لمحہ صدف

ہو زباں پر نامِ پاکِ مصطفیٰ آٹھوں پہر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ