اردوئے معلیٰ

ہو کرم کی نظر اس گنہگار پر ، ہاتھ باندھے کھڑا ہے یہ در پر شہا

کچھ نواسوں کا صدقہ عطا کیجئے ، اپنا دامن یہ لے جائے بھر کر شہا

 

آپ کے در پہ آتے ہیں شاہ و گدا ، لوٹ کر در سے کوئی نہ خالی گیا

جس نے مانگا ہے جو بھی مرِے مصطفیٰ ، آپ نے اْس کو بھیجا ہے دے کر شہا

 

کیوں نہ شہر مدینہ ضیا بار ہو ، اسکے چاروں طرف نور ہی نور ہو

ہیں ہوائیں بھی کتنی مصفّٰی یہاں اور فضاء بھی ہے کتنی معطّر شہا

 

جس نے جھیلے ہیں صدمے سدا ہجر کے ، دور طیبہ سے آخر وہ کیونکر رہے

کیف ملتا ہے کیسا یہاں وصل میں ، ہم نے دیکھا مدینے میں آ کر شہا

 

ہاتھ جوڑے کھڑا ہے جلیلِ حزیں ، آپ کے در کا منگتا ہے اے شاہ دیں

لوٹ کر پھر بھی آئے گا یہ بالیقیں ، اس کو اذنِ حضوری ملے گر شہا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات