اردوئے معلیٰ

ہو کشتِ دل میں مرے لالہ زار کا موسم

جو دیکھ لوں میں نبی کے دیار کا موسم

 

خزاں رسیدہ چمن زارِ ہست تھا پہلے

لیے وہ آئے ہیں باغ و بہار کا موسم

 

چمکنے والا ہے آئینئہ جمالِ رسول

سنا ہے آیا گلوں کے سنگھار کا موسم

 

نبی ہوئے جو قدم رنجہ باغِ عالم میں

رخِ حیات نے دیکھا نکھار کا موسم

 

کھلیں شگوفے مسرت کے قریہءِ جاں میں

ہو کاش ختم دلِ بے قرار کا موسم

 

زہے نصیب جو نعلینِ مصطفٰی پڑ جائے

تو دور ہوگا مرے دل سے تار کا موسم

 

نواز کو بھی دکھا دیجے رُت مدینے کی

ڈھلے خدارا شبِ انتظار کا موسم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات