اردوئے معلیٰ

Search

ہو گئی سرکار کی جلوہ گری

نور سے دنیا منور ہو گی

 

جلوہ فرما جب ہوئے میرے نبی

تھا لبوں پر ربِ ہب لِیِ اُمتی

 

تیرگی اور ظلمتیں رخصت ہوئیں

ہو گئی جگ میں سراسر روشنی

 

سارے عالم میں اُجالا ہو گیا

مِٹ گئی ساری کی ساری تیرگی

 

باغِ عالم میں اُنہیں کے فیض سے

ہوگئی ہے تازگی ہی تازگی

 

نورِ محبوبِ خدا سے باالیقیں

روشنی شمس و قمر کو مِل گئی

 

مرحبا صد مرحبا کی ہے صدا

اُن کے آنے کی سبھی کو ہے خوشی

 

ہاں مگر شیطان ہی غمگین ہے

اُس کے ہی گھر میں صفِ ماتم بچھی

 

غمزدہ جو بھی ولادت پر ہوا

ذُرّیت ہے وہ لعیں شیطان کی

 

دید ہو آقا ولادت کے طُفیل

ہے یہ مرزا کی تمنائے دِلی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ