اردوئے معلیٰ

ہو گئے راکھ سبھی خواب شہابی تیرے

ہاتھ کیا آیا بجز خانہ خرابی تیرے

 

وقت مصروفِ ترامیم رہا اور ادھر

زرد پڑتے گئے رخسار گلابی تیرے

 

ہم کہ جاں دادہِ یک نانِ جویں تھے ائے دل

ہائے کم بخت مگر شوق نوابی تیرے

 

دست کش، جا ، کہ نہیں آج کوئی دستِ طلب

مر گئے پیاس کی شدت سے شرابی تیرے

 

عشق آنکھوں کی نمی چوس کے دم لیتا ہے

خاک ہو جائیں گے یہ کرہِ آبی تیرے

 

لمس کا باب کہ بس تشنہ تحریر رہا

لاکھ چہرے تھے شبِ وصل کتابی تیرے

 

خودکشی ٹھان کے ہتھیار اٹھائے تھے یہاں

روکنے تھے ہی نہیں وار جوابی تیرے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات